اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندہ دفتر نے اپنے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری بان کی مون سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژادکی ملاقات کے بارے میں اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کے ترجمان کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات میں صدراحمدی نژاد نے کہا ہےکہ ایران کو توقع ہے کہ اقوام متحدہ اپنی خود مختاری کا تحفظ کرتے ہوئے تین مغربی ملکوں کا بیان دہرانے کے بجائے اس سلسلے میں ذمہ دار ادارے آئی اے ای اے کے موقف پرتوجہ دے۔ ایران کے صدر نے ایٹمی مسئلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری سے کہا ہےکہ ایران نے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے قوانین کے مطابق عمل کیا ہے بلکہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں سے بھی زیادہ شفافیت کا مظاہرہ کیاہے اور یورے نیم کی افزودگي کیلئے دوسر ے ایٹمی پلانٹ کے بارے میں قانونی وقت سے بارہ مہینے پہلے ہی اس کی خبر دی ہے۔اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندہ دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیوں کے سلسلے میں اپنی اور اپنے ادارے کی کوتاہیوں اور امتیازی رویے کے بارے میں صدرمملکت کے مختلف سوالوں کا جواب نہ دے سکے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کے ترجمان نےبان کی مون سے صدراحمدی نژاد کی ملاقات کے بعد ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ جنرل سکریٹری بان کی مون نے ایران میں انسانی حقوق اور اس کے ایٹمی پروگرام پر تشویش کا اظہار کیاہے۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 168183
اقوام متحدہ ميں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندہ دفتر نے کہا ہے کہ حیرت کی بات ہے کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی ترغیب کے بجائے بعض غیرمنصفانہ تنقید کی جارہی ہے۔